Casa » Petrología » Charagh Talay / چراغ تلے Libro EPUB, PDF

Charagh Talay / چراغ تلے Libro EPUB, PDF

Para un entusiasta de la lectura, es muy necesario identificar formatos comunes de libros electrónicos. El formato EPUB que se usa comúnmente en el mercado de libros electrónicos es un requisito previo que otros. Como los dispositivos de lectura y el software de Kobo, Nook y Sony son compatibles con los libros electrónicos en formato EPUB. Aquí puedes descargar el libro Libros descargables de Kindle Charagh Talay / چراغ تلے por Mushtaq Ahmad Yusufi EPUB DJVU en epub y pdf.

Charagh Talay / چراغ تلے Libros descargables de Kindle
  • Libro de calificación:
    4.84 de 5 (641 votos)
  • Título Original: Charagh Talay / چراغ تلے
  • Autor del libro: Mushtaq Ahmad Yusufi
  • ISBN: -
  • Idioma: ES
  • Páginas recuento:182
  • Realese fecha:1961-10-16
  • Descargar Formatos: ODF, TORRENT, DOC, AZW, PDF, MS WORD, PGD, EPUB
  • Tamaño de Archivo: 14.84 Mb
  • Descargar: 3641
Secured

Charagh Talay / چراغ تلے por Mushtaq Ahmad Yusufi Libro PDF, EPUB

مشتاق احمد یوسفی نے اردو مزاح کو ایک نئے مزاج سے آشنا کیا ہے۔ یہ مزاج اس کا اپنا مزاج ہے۔ اس رنگا رنگ مجموعے میں ایسے رچے ہوئے مزاج کی جھلکیاں نظر آتی ہیں، جو چوٹ کھا کر بدمزہ نہیں ہوتا۔ طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑتے بلکہ سوچ کی گہری لکیریں ابھر آتی ہیں، جو دیکھتے دیکھتے تبسم زیرِ لب میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ وہ ہنسی ہنسی میں کام کی بات کہہ جاتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی نے اردو مزاح کو ایک نئے مزاج سے آشنا کیا ہے۔ یہ مزاج اس کا اپنا مزاج ہے۔ اس رنگا رنگ مجموعے میں ایسے رچے ہوئے مزاج کی جھلکیاں نظر‌ آتی ہیں، جو چوٹ کھا کر بدمزہ نہیں ہوتا۔ طرزِ تپاکِ اہلِ دنیا دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑتے بلکہ سوچ کی گہری لکیریں ابھر آتی ہیں، جو دیکھتے دیکھتے تبسم زیرِ لب میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ وہ ہنسی ہنسی میں کام کی بات کہہ جاتا ہے۔ دوسروں پر ہنسنے سے پہلے اس نے اپنے ہی داغوں کی بہار دکھا کر دوسروں کو ہنسایا ہے اور پھر خود بھی اس ہنسی میں شریک ہو گیا ہے۔ یوسفی کا مزاح شگفتہ و شاداب ہے، اور اس کا طنز کڑی کمان کا تیر، ان مضامین میں تفکر و تفنن کا ایک خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ اور تحریر کا تیکھا اور رسیلا اسلوب، مشاہدے کی وسعت اور طبیعت کے نکھار کا پتا دیتا ہے۔ وہ لہجے کے اتار چڑھاؤ کی نزاکتوں سے واقف ہے اور الفاظ کا مزاج پہچانتا ہے۔ یہی چیز ایک ایک لفظ کو تلوار اور ہر ایک مضمون کو خندۂ تیغِ اصیل بنا دیتی ہے۔